سینیٹ کمیٹی نے فلم “زندگی تماشا” ریلیز کرنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد: سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے فلم “زندگی تماشا” پر تمام اعتراضات ختم کرتے ہوئے فلم ریلیز کرنے کی اجازت دے دی۔

سینیٹ کی فنکشل کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت ہوا۔ چئیرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ فلم میں کوئی بھی قابل اعتراض مواد موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے تمام ممبران نے متفقہ طور پر فلم کو ریلیز کرنے کی سفارش کی ہے، اس لیے فلم کو روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ کرونا کی صورتحال ختم ہوتے ہی فلم ریلیز کر دی جائے گی۔

جنوری میں تحریک لبیک پاکستان نے ملک میں فلم کی ریلیز کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے منصوبوں کو اس وقت منسوخ کردیا تھا جب حکومت نے کہا تھا کہ فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا حالانکہ سینسر بورڈ نے اسے دو مرتبہ کلیئر کردیا تھا۔

بعدازاں مارچ میں سینیٹ پینل برائے انسانی حقوق نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو فلم پر نظرثانی سے روک دیا تھا، پینل نے سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز کو ہدایت کی تھی کہ وہ کمیٹی کو مووی کی ایک نقل اسکریننگ کے لیے فراہم کریں تاکہ اراکین یہ فیصلہ کرسکیں کہ اس کا مواد قابل اعتراض ہے یا نہیں۔

اس وقت مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ اگر کمیٹی کو فلم میں کوئی قابل اعتراج چیز نظر آئی تو اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ڈرامہ نگار اور شاعر نذیر بھٹی 80 برس کی عمرمیں انتقال کر گئے

پشاور:اردو اور پشتو کے نامور ڈرامہ نگار اور شاعر نذیر بھٹی 80 برس کی عمرمیں …

%d bloggers like this: